کیا دیکھنا ہے، اور بعد میں اُس کی قیمت کیا ہے
کسی نے پورا ہفتہ لگایا ہے تاکہ یہ گھر آسان لگے۔ یہ وہ فہرست ہے جو ہم اپنے ذہن میں چلاتے ہیں، جب باقی سب بینچ ٹاپ کی تعریف کر رہے ہوتے ہیں۔

کسی اجنبی کے گھر میں بیس منٹ، ایک ایجنٹ بولتا ہوا، کہیں ایک موم بتی جلتی ہوئی، اور اِسی میں سے آپ کو ایک بہت بڑا فیصلہ کرنا ہے۔ اِن حالات میں کوئی ٹھیک سے نہیں دیکھ پاتا۔ تو اُلٹا کر لیں۔ فہرست ہاتھ میں لے کر اندر جائیں، بدصورت حصے پہلے نمٹا لیں، اور کچن کی تعریف باہر نکلتے ہوئے کر لیں۔
اندر جانے سے پہلے
ایک منٹ فٹ پاتھ پر کھڑے ہو کر چھت کی لکیر، پرنالوں اور زمین کو دیکھیں۔ گھر کے زیادہ تر مہنگے مسئلے باہر سے ہی اپنا پتا دے دیتے ہیں، اور اِن میں سے کوئی لسٹنگ کی تصویروں تک نہیں پہنچتا۔ باہر ہیں تو یہ بھی دیکھ لیں کہ گھر کا پچھلا رخ کس طرف ہے۔ اِسی سے طے ہوتا ہے کہ سردیوں کی دھوپ کن کمروں میں آئے گی اور کون سے فروری میں پکیں گے۔
پھر پڑوسیوں کو دیکھیں، کونے والے پلاٹ کو، گلی کے سرے پر پڑی خالی زمین کو۔ آپ گھر کے ساتھ ساتھ گلی بھی خرید رہے ہوتے ہیں، اور نئی اسٹیٹ میں گلی اکثر ابھی مکمل ہی نہیں ہوئی ہوتی۔
جو فہرست ہم چلاتے ہیں
تقریباً اِسی ترتیب سے، بدترین پہلے۔ اِن میں سے ایک بھی خراب ہو تو بینچ ٹاپ کی اہمیت ختم ہو جاتی ہے اور آپ جلد نکل سکتے ہیں۔
- چھتیں، ہر کمرے میں، کونوں میں اور بتیوں کے آس پاس۔ بھورا حلقہ، یا ایسی چھت پر تازہ پینٹ کا ایک ٹکڑا جسے باقی جگہ سے چھیڑا نہیں گیا، مطلب پانی اندر آ چکا ہے۔ پانی کبھی سستا نہیں پڑتا۔
- وہ جوڑ جہاں چھت دیوار سے ملتی ہے، اندر سے بھی اور باہر سے بھی، اور اوپر والے باتھ روم کے بالکل نیچے کی چھت۔
- پانی والے حصے۔ شاور کے فرش کے پاس پاؤں دبا کر دیکھیں کہ ہلتا تو نہیں، گراؤٹ اور سلیکون کو غور سے دیکھیں، اور چند ٹائلیں بجا کر سنیں کہ کہیں کھوکھلی تو نہیں۔
- کچن کے سنک کے نیچے اور بیسن کی الماری کے نیچے۔ وہاں پھولا ہوا، بھربھرا چپ بورڈ ایک ایسے رساؤ کی نشانی ہے جو لمبے عرصے سے خاموشی سے چل رہا ہے۔
- سب نلکے چلا کر دیکھیں، گرم اور ٹھنڈا، اور ایک نلکا چلتے ہوئے ٹوائلٹ فلش کریں تاکہ پریشر کا حال معلوم ہو۔
- ہر کھڑکی اور ہر دروازہ کھول بند کر کے دیکھیں، وہ بھی جو پینٹ سے چپکے ہوئے ہیں۔ اٹکنے والے دروازے، اور دروازے کی چوکھٹ کے کونے سے ترچھی جاتی دراڑیں، گھر کا اپنا اعلان ہیں کہ وہ ہل چکا ہے۔
- فرش۔ ہر کمرے کے بیچ سے گزریں اور محسوس کریں کہ کہیں دبتا یا ڈھلکتا تو نہیں، خاص طور پر پرانی جگہوں پر۔
- میٹر باکس۔ سرکٹ بریکر کے بجائے تار والے سیرامک فیوز، اور سیفٹی سوئچ کا نہ ہونا، مطلب آگے چل کر پوری وائرنگ بدلنی پڑے گی۔
- گرم پانی کا یونٹ۔ اُسے ڈھونڈیں، نیچے کے آس پاس زنگ دیکھیں، اور پلیٹ پر لگی تاریخ پڑھ لیں۔
- پرنالوں کا پانی جاتا کہاں ہے۔ اگر کوئی اسٹارم واٹر سے ملنے کے بجائے گھر کے ساتھ مٹی میں ہی ختم ہو رہا ہے تو غالباً آپ کو سیلن کے مسئلے کی جڑ مل گئی ہے۔
- باہر کی دیواروں کے ساتھ زمین کی سطح۔ مٹی، کنکریٹ یا کیاری اگر ڈیمپ کورس سے اوپر بیٹھی ہو تو پانی اینٹوں میں اوپر کھینچے گی، اور اِس کی مرمت نہ خوبصورت ہوتی ہے نہ سستی۔
- کونوں پر اور کھڑکیوں کے اوپر اینٹوں کا کام، ایسی دراڑوں کے لیے جو مسالے کے جوڑوں سے سیڑھی کی طرح نیچے اترتی ہیں۔
- چھت، گلی سے بھی دیکھیں اور پچھلے صحن سے بھی۔ کھسکی یا اٹھی ہوئی ٹائلیں، نالیوں میں زنگ، کوئی ترپال، یا کسی ایک جگہ بالکل نئی ٹائلوں کا ٹکڑا۔
- باڑ، اور یہ کہ اِن میں سے کون سی آپ کی ہے۔ گرتی ہوئی حدی باڑ ایک ایسے پڑوسی سے گفتگو ہے جس سے آپ ابھی ملے بھی نہیں۔
- بو۔ سیلن، پھپھوندی، اور ایک کمرے میں تازہ پینٹ جب باقی گھر کو چھیڑا ہی نہیں گیا۔
- فون کے سگنل، گھر کے بیچ میں ساکت کھڑے ہو کر۔
- کوڑے کے ڈبے کہاں رہتے ہیں، دوسری گاڑی کہاں کھڑی ہو گی، اور یہ کہ ٹریلر والی کوئی چیز اندر باہر آ جا سکتی ہے یا نہیں۔
جب گھر بالکل نیا ہو
نیا تعمیر شدہ گھر مختلف چیزیں چھپاتا ہے۔ ابھی کسی چیز کو خراب ہونے کا وقت ہی نہیں ملا، تو آپ اصل میں کام کی کوالٹی اور شامل اشیا کی فہرست کی کھرائی پرکھ رہے ہوتے ہیں۔
- شامل اشیا۔ باڑ، لان، ڈرائیو وے، بلائنڈز، جالیاں، لیٹر باکس اور کپڑے سکھانے کی تار اکثر تعمیری قیمت سے باہر ہوتی ہیں، اور یہ سب مل کر اُسی مہینے ایک اصلی بل بن کر آتی ہیں جب آپ کے پاس سب سے کم پیسہ ہوتا ہے۔
- پانی والے حصوں کا فرش: پانی نالی کی طرف بہنا چاہیے، اُس سے دور نہیں۔ تھوڑا سا انڈیل کر دیکھ لیں کہ کدھر جاتا ہے۔
- کارنس، اسکرٹنگ کے جوڑ، دروازوں کی چوکھٹیں اور وہ لکیر جہاں پلاسٹر بورڈ کی دو شیٹیں ملتی ہیں۔ یہاں کچا کام عموماً اُس کام کے بارے میں کچھ کہہ دیتا ہے جو آپ کو نظر نہیں آتا۔
- ہر دروازہ اور ہر دراز، ہر کھڑکی کا لاک، ہر پاور پوائنٹ، اور ہر نلکے کا گرم اور ٹھنڈا۔
- کھڑکیوں اور باہر کے دروازوں کے گرد خلا، اور یہ کہ سیل واقعی آپس میں ملتے بھی ہیں یا نہیں۔
- گلی کے سرے پر باڑ کے پیچھے کیا ہے، اور اسٹیٹ کا اگلا مرحلہ کہاں بنے گا۔
بلڈر کی وارنٹی کے کاغذ اور نقائص کے ازالے کا طریقہ تحریری طور پر مانگیں، اور پوچھیں کہ ہینڈ اوور کے بعد کسی چیز کی اطلاع دینے کے لیے آپ کے پاس کتنا وقت ہے۔ یہ ایک اصلی حق ہے جس کی ایک اصلی مدت ہوتی ہے، اور بہت سے لوگوں کو یہ مدت گزر جانے کے بعد ہی پتا چلتی ہے کہ وہ کہاں تھی۔
پھر دوسری بار جائیں
اوپر کا سب کچھ پہلے چکر میں ہو سکتا ہے۔ جو پہلا چکر آپ کو نہیں بتا سکتا وہ یہ ہے کہ اُس جگہ رہنا کیسا ہے، کیونکہ آپ نے اُسے ہفتے کے دن گیارہ بجے دیکھا تھا، سجا سنورا، کھڑکیاں کھلی ہوئی، اور اوون میں کچھ پکتا ہوا۔
تو دوبارہ جائیں۔ ہفتے کے کسی دن کام کے بعد شام کو باہر گاڑی کھڑی کریں، اور ایک بار اتوار کی صبح سویرے بھی۔ فری وے، ریل کی پٹری اور مین روڈ کی آوازیں سنیں۔ دیکھیں لوگ گاڑیاں کہاں کھڑی کرتے ہیں۔ ہو سکے تو اُس وقت لاؤنج میں کھڑے ہوں جس وقت آپ خود وہاں ہوتے۔
یا ہمیں ساتھ لے جائیں۔ ہم اِن گھروں میں روزی کے لیے پھرتے ہیں، اور کسی چیز کی طرف اشارہ کر دینا صفحے پر اُسے بیان کرنے سے کہیں آسان ہے۔
اُس دن
- ہم گھر کہاں گھوم کر دیکھتے ہیں
- کرین بورن ایسٹ، کلائیڈ، ڈوویٹن اور ہیمپٹن پارک
- ہم سے پوچھیں
- ہزارگی، انگریزی یا اردو میں
- مہر کے ساتھ ایک گھر دیکھیں
- 0474 189 561
یہ بھی پڑھنے کے قابل
سیٹلمنٹ والا رہنما آخری معائنے کا احاطہ کرتا ہے، یعنی دوسری بار جب آپ فہرست ہاتھ میں لے کر اُس گھر میں گھومتے ہیں۔
آئیں، ایک گھر ہمارے ساتھ دیکھ لیں
جو بھی گھر آپ دیکھ رہے ہیں اُس کا پتا ہمیں بھیج دیں، ہمارا ہو یا کسی اور کا۔ ہم بتا دیں گے کہ ہم سب سے پہلے کیا دیکھتے، اور آ کر آپ کے ساتھ اُس میں کھڑے بھی ہوں گے۔
مہر کو کال کریں 0474 189 561
